78163834 95cc 47f1 9856 ddfcecf3590c

!منشیات کے قبضے میں نسلیں

منشیات کا مسئلہ آج پاکستان، خصوصاً سندھ، کا سب سے سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ تعلیم، معیشت، خاندانی نظام، امن و امان اور ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک قومی بحران ہے۔ منشیات کی لپیٹ میں صرف ایک فرد نہیں آتا بلکہ اس کا پورا خاندان، معاشرہ اور بالآخر ملک بھی اس کے منفی اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات ملک کی ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔

منشیات ایک ایسا نشہ ہے جو انسان کے جسم اور دماغ کو اندر سے دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ وقتی سکون یا لطف کا احساس دیتی ہے، مگر آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، یادداشت، صحت اور شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے۔ نتیجتاً ایک ہنستا کھیلتا انسان زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے۔

آج مختلف اقسام کی منشیات نوجوانوں میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ آئس (Ice) ایک مصنوعی (Synthetic) منشیات ہے جو مختلف کیمیکلز سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے استعمال سے دماغ بھاری رہتا ہے، بلاوجہ غصہ آتا ہے، یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور بھوک ختم ہونے لگتی ہے۔ چرس پودوں کی رال سے تیار کی جاتی ہے اور اس کے استعمال سے سستی، وہم، گھبراہٹ، زیادہ بھوک لگنا اور آنکھوں کا سرخ ہونا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ شراب پھلوں، گنے یا اناج کی شکر کو خمیر کے ذریعے الکحل میں تبدیل کر کے بنائی جاتی ہے، جو ڈپریشن، بے چینی، دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور یادداشت کی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح نشے کی گولیاں جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ نشے کی سپاری جیسے Z21 One 2 One کے مسلسل استعمال سے کینسر جیسے خطرناک مرض کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

منشیات کے سب سے زیادہ منفی اثرات نوجوان نسل پر پڑتے ہیں۔ نوجوان تعلیم سے دور ہونے لگتے ہیں، بے روزگاری بڑھتی ہے، سماجی تعلقات ختم ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن اس حد تک بڑھ سکتا ہے کہ بعض افراد خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔ ایک ایسا نوجوان جو ملک کا مستقبل ہو سکتا تھا، وہ منشیات کی وجہ سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔

خاندان بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہتے۔ گھر کے اندر جھگڑے بڑھ جاتے ہیں، غربت اور بھوک جنم لیتی ہے، خوشگوار ماحول ختم ہو جاتا ہے اور بچے بھی اسی ماحول سے متاثر ہو کر غلط راستے پر چلنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف علاج پر بڑھتے ہوئے اخراجات خاندان کی معاشی حالت کو مزید کمزور کر دیتے ہیں۔

معاشرے پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منشیات کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے، جرائم بڑھتے ہیں، چوریاں، قتل اور تشدد معمول بنتے جاتے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو جاتی ہے اور عوام کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ بڑھ کیوں رہا ہے؟ میری رائے میں اس کی ایک بڑی وجہ قانون پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ اگرچہ منشیات کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا۔ سندھ میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض بااثر افراد اور جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی یا سماجی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے منشیات کا کاروبار ختم ہونے کے بجائے مزید پھیلتا جاتا ہے۔ کئی مواقع پر منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو دھمکیوں اور دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ غلط صحبت بھی نوجوانوں کو منشیات کی طرف دھکیلتی ہے۔ میں خود ایک طالب علم ہوں اور میں نے اپنی زندگی میں ایسے کئی نوجوان دیکھے ہیں جو صرف غلط دوستوں کی وجہ سے اس لعنت کا شکار ہوئے اور پھر اس سے نکل نہ سکے۔ اسی طرح آگاہی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منشیات کے نقصانات، ان سے بچاؤ اور صحت پر ان کے اثرات کے بارے میں باقاعدہ تعلیم، سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تو نوجوان بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرے، منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور ایک خصوصی فورس قائم کرے جو صرف منشیات کے معاملات کی نگرانی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جو لوگ منشیات فروشوں کی نشاندہی کریں، انہیں تحفظ اور حوصلہ افزائی دی جائے۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان اس تباہ کن لعنت سے محفوظ رہ سکیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال سندھ سمیت پورے پاکستان کے لیے ایک سنگین سماجی چیلنج ہے۔ اگر آج اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں بھی اس کے تباہ کن نتائج بھگتیں گی۔ نوجوان کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں، اس لیے انہیں منشیات سے دور رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *