whatsapp image 2026 08 03 at 11.48.44 pm

ظلم نسلوں میں بھی سفر کرتا ہے۔

ظلم نسلوں میں بھی سفر کرتا ہے

سرفراز ایک باپ، ایک بیٹا، ایک شوہر

ایک بیٹے کی شکل میں کامیاب خودمختار بیٹا۔

ایک باپ کی شکل میں کامیاب مثالی شخصیت۔

پر ایک شوہر کی شکل میں تشدد پسند۔

سرفراز جو ایک کپڑے کی فیکٹری میں ٹھیکیدار ہے۔

سرفراز کی بیوی فریحہ جو ایک گھریلوں بیوی ہے۔

بیٹا شان جو ابھی صرف دس سال کا ہے جو پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔

سرفراز: جب گھر واپس آتا تو ایک خوشحال ماحول قید خانے کی شکل میں تبدیل ہو جاتا،

ہمشیہ کی طرح آج بھی جب قدم گھر کی دھلیز پر پڑے تو،

فریحہ فریحہ ! کہاں مر گئی، کہاں مر گئیں گھر کے سارے لوگ!

 کوئی مجھے پانی دیے گا،

 یا میں خود اٹھا لوں ڈنڈھا ،

فریحہ: کچن سے دوڑ کر سر جھکاتے ہوئے جی میں آپ کے لیے کھانا بنا رہی تھی۔

یوں اچانک ایک تھپڑ کی آواز سنائی دی، ان گالوں پر جن پر بیٹی کی شکل میں شفقت کے نشاں تھے،

اور ایک ماں کی شکل میں رحمت کی کے نشاں تھے،

 آج انہی گالوں پر ایک تھپڑ کی سرخی نے ظلم کی کہانی لکھ دی ہمیشہ کی طرح۔

سرفراز: نکل جاؤ یہاں سے میں تھک ہار کے گھر واپس آنے پر بھی ایک گلاس پانی کا بھی حقدار نہیں!

فریحہ: روتی ہوئی سالوں کے ظلم کے بعد اتنا بول پائی خدا دیکھ رہا ہے سرفراز آج میرا باپ زندھ ہوتا تو یہ دن نا دیکھنے کو ملتا،

سرفراز: خاموش گستاخ لڑکی کس خدا کی بات کر رہی ہو ؟ ہمیں اجازت ہے مار سکتے ہیں ہم حق رکھتے ہیں تم پر۔

جوں کے ہمارا مذھب یہ کہتا ہے بیوی شوہر کی ملکیت ہے اور اس کو اتنا مارو کے خون نا نکلے تو میں اپنی جگہ پر صحیح ہوں!

نکلو اب کے میرا دوسرا ہاتھ بھی نا اٹھ جائے!

پاس دروازے کے ساتھ سہم کر کھڑا شان جھانکتے ہوئے نظر آیا جو اپنی ماں کی بے بسی دیکھ رہا تھا جس کے ہاتھ کانپ رہے تھے آنکھیں نم تھی۔

یوں دن گزرتے گئے دن سے رات،  رات سے دن

جو ایک باپ مثالی شخصیت تھا اب وہ ایک تشدد پسند بنتا جا رہا تھا اپنے ہی بیٹے شان کی نظر میں!

وہ گھر آتا جو غصے کا قیدی تھا، جس کا ذھین معذور تھا،

فریحہ کی خاموشی کو کمزور سمجھنے لگا جس کا سایہ اب گھر کی چاروں طرف ڈر کا ٹھکانہ بنا ہوا تھا!

جب وقت نے رفتار پکڑی تو شان بچپن سے جوانی کی طرف چلنے لگا ساتھ ہی باپ کا ظلم اور الفاظ یوں ہی ہمراہ چلنے لگے۔

ایسا وقت دیکھنے کو دیکھا جب باپ جو گھر میں طاقت ظلم کی علامت ہوا کرتا تھا وہ بیمار ہو کر بستر پر پایا گیا  اور مظلوم ماں جو ستم سہتے سہتے گذر چکی تھی۔

شان نے جب تعلیم مکمل کی تو اب وہ ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا اور باپ کی ملکیت کے ساتھ اب خود کے پاس بھی اپنی ملکیت تھی،

پھر شان نے شادی کر لی زینب نام کی لڑکی سے جو ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر تھی جس کے کچھ دنوں بعد تو تو میں میں شروع ہوگی چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ الفاظ دھرانا جس کو سنتے شان بڑا ہوا تھا میں ایک شوہر ہوں میرا حق ہے تم پر میں مار سکتا ہوں ۔

یوں وقت گذرتے گذرتے بات یہاں تک آگئ جب شان کو اس کے مینیجر نے کام کی سستی میں برا بھلا کھنے لگا اور ایک دن نوکری سے نکال دیا ۔

اس دن شان جیسے گھر میں قدم رکھتا ہے وہی الفاظ

زینب زینب کہاں مر گئی ہو زینب جو اس وقت سکول میں بچوں کو پڑھا رہی تھی

جب اچانک کچھ وقت بعد گھر آئی تو گھر کا سامان ٹوٹا ہوا نظر آیا شان نے جیسے آواز سنی دوڑتا ہوا آیا اور ایک تھپڑ گال پر لگائی  اور کہنے لگا شوہر گھر میں پریشان بیٹھا ہے تم باہر مزے لے رہی ہو آج سے تمھارا جانا بند۔

زینب نے کہاں تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی میرا کام ہے میں جاؤنگی اسکول۔

یہ سنتے ہی شان غصے سے آگ بھبولا ہوگیا  اور زینب پر اتنا تشدد کیا کے وہ لہو لہاں ہوگئی۔

پڑوسی شور سن کر یہ بول کہ چلے گئے کہ ان کا تو سالوں سے یئ کام ہیں چھوڑو ہمیں کیا خود جانے خود کا گھر جانے۔

اچانک رات کے وقت جب زینب کا باپ گھر آیا بیٹی سے گھر کے سلسلے میں کچھ مشورہ لینے وہ دیکھتا ہے کہ اس کی بیٹی زنیب خون سے لہو لہان زمین پر پڑی پانی پانی کی سدائیں لگا رہی ہے۔

باپ روتا ہوا اٹھا کر اپنی بیٹی کو اسپتال لے گیا اور کچھ وقت کے بعد زنیب نے اس سے خلا لے لی اور اس پر

Domestic Violence (Prevention and Protection) Act, 2026

کے تحت اس کو سزا دلوائی۔

اختتامیہ

شان نے بچپن میں جو دیکھا وہی جوانی میں دہرایا۔ اسے کبھی یہ نہیں سکھایا گیا کہ محبت احترام اور برداشت ایک مضبوط انسان کی پہچان ہیں۔ اس نے اپنے باپ کے غصے الفاظ اور تشدد کو ہی شوہر ہونے کا حق سمجھ لیا مگر زینب نے خاموش رہنے کے بجائے قانون کا سہارا لیا اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔

عدالت نے شواہد کی بنیاد پر شان کو گھریلو تشدد کے جرم میں سزا سنائی اس فیصلے نے یہ پیغام دیا کہ تشدد نہ مردانگی ہے نہ اختیار  بلکہ ایک قابل سزا جرم ہے۔

نوٹ: نیچے دی گئی تصویر نوابشاھ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں فقیر دوست محمد ھیسبانی کی ہے

یہ تصویر تب بنائی گئی جب میں

Girls education in rural Nawabshah

پر ریسرچ کر رہا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *