ہاں میں فتح ہوں
ایک مسکراتا ہوا چہرہ ہلکی سی مسکان اور معصومیت کے ساتھ اپنے باپ کی طرف دیکھتا ہوا نظر آیا
وہ صرف اس کا باپ نہیں اس کا ہیرو بھی تھا
اسکول میں رسی کشی کا کھیل تھا جس میں
فتح اور ماحین نے بھی حسا لیا
یہ دونوں آپس میں اچھے دوست تھے ساتھ پڑھتے گیم کھیلتے ہنسی مذاق کرتے یوں ان کی زندگی گز رہی تھی
رسی کشی کی گیم میں دونوں نے حسا لیا
دونوں گلاب کے پھول رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہنستے ہوئے ایک
دوسرے کو دیکھنے لگے
جب گیم شروع ہوئی تو ماحین نے ایک ہی جھڑپ میں رسی کو کھینچا جس سے فتح گر گیا
اٹھ کر چھوٹی سی آنکھیں گھومتی گھومتی اپنے باپ کی طرح پڑی
اور مسکراتے ہوئے بھاگا یوں جا کر لپٹ گیا چھوٹی سی جان بڑی بڑی سانسے لینے لگا
اچانک ہلکی سے آواز آئی
تم ایک لڑکی سے ہار گئے!
ہنستا ہوا چہرہ خاموش میں بدل گیا !
اندھیری رات میں فتح اپنے باپ کے سینے پر سر رکھ کے سونی کی کوشش کر رہا تھا
پھر اچانک ہلکی سی آواز آئی
جانتے ہوں مینے تمھارا نام فتح کیوں رکھا؟؟
فتح مطلب جیت، جیت مطلب تم
پر تم ایک لڑکی سے ہار گئے!!
تمھاری ماں بھی ایسی تھی جیسی وہ لڑکی تھی ماحین!
اور ایسی عورتیں دنیا میں گھر تباھ کرتی ہیں اس کو بھی آگے پڑھنے کا شوق تھا تبھی تو اس نے تمہیں اور مجھے
چھوڑا!!
چلو اب تم سو جاؤ میرا بیٹا !
آنکھیں تو بند ہوئی پر کانوں میں وہی الفاظ گونج رہے تھے
تم ایک لڑکی سے ہار گئے
تمہارہ ماں بھی ایسی تھی
جوں جوں وقت گزرتا گیا
فتح بھی بڑا ہوتا گیا
ہاں پر وہ پہلے والا فتح نہیں تھا
اسکول سے کالیج پھر یونیورسٹی کا سفر شروع ہونے لگا !
عورت کے نام سے نفرت سی ہو گئی تھے جسے اس کو وہ دنیا کی ہر عورت کو اپنا دشمن سمجھنے لگا اپنی ماں کی
شکل میں !
اور اسی سفر میں اس کی ایک بھی دوست کوئی لڑکی نا بن پائی تھی
اسکول کالیج یونیورسٹی میں اکیلا رہنے لگا اور ایک ہی بات سنائی دینے لگی تھی میرا نام فتح رکھا گیا ہے میں کبھی
ہار نہیں سکتا
پڑھائی ختم کرنے کے بعد جب وہ جینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ قائد اعظم یونیورسٹی میں انٹرویو دینے گیا تو اس کی ساتھ
دائیں طرف ایک لڑکی بھی بیٹھی تھی جس کا نام ائیشا تھا وہ بھی اسی جگہ انٹرویو دینے آئی تھی۔
فتح نے سینے پر ہاتھ رکھا اور
بابا با با کہنے لگا اور مسکرایا
کچھ دن کے بعد جب نتیجہ سامنے آیا تو وہ لڑکی جس کا نام ائیشا تھا وہ پاس ہوگئی
اور فتح فیل ہوگیا
فتح نے خود کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور زور سے رونے لگا
ہاں میں فتح ہوں مجھے جیتنا تھا
میں اپنے باپ سے کیسے آنکھوں میں آنکھیں ملاؤ گا
اس لڑکی وجہ سے میرا باپ بھی نا مجھے چھوڑ جائے جسے میری ماں گئی تھی
سر پر ہاتھ آنکھوں میں آنسوں غسے سے بھرا چہرا
کانپتا ہوا جسم
وہی الفاظ
میں فتح ہوں
میں فتح ہوں
دوسری طرف وہ لڑکی جو اپنے گھر کا ایک ہی سھارا تھی وہ خوشی خوشی جب گھر جا رہی تھی تو
اچانک فتح سامنے آیا اور دکھنے لگا
وہ لڑکی مسکرا کر بولی جی آپ کون ؟
ہنس کر آواز آئی تمھاری موت !
ہاتھ میں تیزاب دیکھا
اور یوں درد بھری چھینکیں سنائی دی
درختوں پر بیٹھے پردوں نے ایک دوسرے کو کہنے لگے
کیا اشرفلمخلوقات اسی کا نام ہے؟؟
ایک طرف درد بھری چھینکیں
دوسری طرف بابا آپ کا فتح جیت گیا


Thank you saahrise