muzamil hussain

ہاں میں فتح ہوں

ہاں میں فتح ہوں
ایک مسکراتا ہوا چہرہ ہلکی سی مسکان اور معصومیت کے ساتھ اپنے باپ کی طرف دیکھتا ہوا نظر آیا
وہ صرف اس کا باپ نہیں اس کا ہیرو بھی تھا
اسکول میں رسی کشی کا کھیل تھا جس میں
فتح اور ماحین نے بھی حسا لیا
یہ دونوں آپس میں اچھے دوست تھے ساتھ پڑھتے گیم کھیلتے ہنسی مذاق کرتے یوں ان کی زندگی گز رہی تھی
رسی کشی کی گیم میں دونوں نے حسا لیا
دونوں گلاب کے پھول رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہنستے ہوئے ایک
دوسرے کو دیکھنے لگے
جب گیم شروع ہوئی تو ماحین نے ایک ہی جھڑپ میں رسی کو کھینچا جس سے فتح گر گیا
اٹھ کر چھوٹی سی آنکھیں گھومتی گھومتی اپنے باپ کی طرح پڑی
اور مسکراتے ہوئے بھاگا یوں جا کر لپٹ گیا چھوٹی سی جان بڑی بڑی سانسے لینے لگا
اچانک ہلکی سے آواز آئی
تم ایک لڑکی سے ہار گئے!
ہنستا ہوا چہرہ خاموش میں بدل گیا !
اندھیری رات میں فتح اپنے باپ کے سینے پر سر رکھ کے سونی کی کوشش کر رہا تھا
پھر اچانک ہلکی سی آواز آئی
جانتے ہوں مینے تمھارا نام فتح کیوں رکھا؟؟
فتح مطلب جیت، جیت مطلب تم
پر تم ایک لڑکی سے ہار گئے!!
تمھاری ماں بھی ایسی تھی جیسی وہ لڑکی تھی ماحین!
اور ایسی عورتیں دنیا میں گھر تباھ کرتی ہیں اس کو بھی آگے پڑھنے کا شوق تھا تبھی تو اس نے تمہیں اور مجھے
چھوڑا!!
چلو اب تم سو جاؤ میرا بیٹا !
آنکھیں تو بند ہوئی پر کانوں میں وہی الفاظ گونج رہے تھے
تم ایک لڑکی سے ہار گئے
تمہارہ ماں بھی ایسی تھی
جوں جوں وقت گزرتا گیا
فتح بھی بڑا ہوتا گیا
ہاں پر وہ پہلے والا فتح نہیں تھا
اسکول سے کالیج پھر یونیورسٹی کا سفر شروع ہونے لگا !
عورت کے نام سے نفرت سی ہو گئی تھے جسے اس کو وہ دنیا کی ہر عورت کو اپنا دشمن سمجھنے لگا اپنی ماں کی
شکل میں !
اور اسی سفر میں اس کی ایک بھی دوست کوئی لڑکی نا بن پائی تھی
اسکول کالیج یونیورسٹی میں اکیلا رہنے لگا اور ایک ہی بات سنائی دینے لگی تھی میرا نام فتح رکھا گیا ہے میں کبھی
ہار نہیں سکتا
پڑھائی ختم کرنے کے بعد جب وہ جینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ قائد اعظم یونیورسٹی میں انٹرویو دینے گیا تو اس کی ساتھ
دائیں طرف ایک لڑکی بھی بیٹھی تھی جس کا نام ائیشا تھا وہ بھی اسی جگہ انٹرویو دینے آئی تھی۔
فتح نے سینے پر ہاتھ رکھا اور

بابا با با کہنے لگا اور مسکرایا
کچھ دن کے بعد جب نتیجہ سامنے آیا تو وہ لڑکی جس کا نام ائیشا تھا وہ پاس ہوگئی
اور فتح فیل ہوگیا
فتح نے خود کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور زور سے رونے لگا
ہاں میں فتح ہوں مجھے جیتنا تھا
میں اپنے باپ سے کیسے آنکھوں میں آنکھیں ملاؤ گا
اس لڑکی وجہ سے میرا باپ بھی نا مجھے چھوڑ جائے جسے میری ماں گئی تھی
سر پر ہاتھ آنکھوں میں آنسوں غسے سے بھرا چہرا
کانپتا ہوا جسم
وہی الفاظ
میں فتح ہوں
میں فتح ہوں
دوسری طرف وہ لڑکی جو اپنے گھر کا ایک ہی سھارا تھی وہ خوشی خوشی جب گھر جا رہی تھی تو
اچانک فتح سامنے آیا اور دکھنے لگا
وہ لڑکی مسکرا کر بولی جی آپ کون ؟
ہنس کر آواز آئی تمھاری موت !
ہاتھ میں تیزاب دیکھا
اور یوں درد بھری چھینکیں سنائی دی
درختوں پر بیٹھے پردوں نے ایک دوسرے کو کہنے لگے
کیا اشرفلمخلوقات اسی کا نام ہے؟؟

ایک طرف درد بھری چھینکیں
دوسری طرف بابا آپ کا فتح جیت گیا

1 thought on “ہاں میں فتح ہوں”

Leave a Reply to Muzamil Hussain Cancel Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *